پاکستان کے سفارت خانے جکارتہ میں “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ نہایت وقار اور سنجیدگی کے ساتھ منائی گئی۔ اس تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کے اراکین، میڈیا نمائندگان، معزز مہمانوں اور انڈونیشی شہریوں نے شرکت کی، جو اتحاد اور یکجہتی کے مضبوط جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔

تقریب کے دوران صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں وطن کے لیے دی گئی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور پاکستان کے امن، خودمختاری اور قومی استقامت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اپنے خطاب میں دفاعی اتاشی نے پاک افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا، نیز پاکستانی عوام کے حوصلے اور حب الوطنی کو سراہا۔ انہوں نے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر قسم کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
نائب سربراہِ مشن جناب روشن لال نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مستقل عزم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے، جس میں حالیہ امریکہ-ایران بحران کے دوران کشیدگی کم کرنے اور پرامن روابط کی حمایت کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام مسئلۂ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں، جو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

نائب سربراہِ مشن نے اس بات پر زور دیا کہ “معرکۂ حق” کی سالگرہ منانے کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک زیادہ مضبوط، متحد اور خوشحال مستقبل کی تشکیل بھی ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا میں مقیم پاکستانی برادری کی مثبت خدمات کو سراہا، جو دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

