سعودی عرب میں پلاسٹک کچرے کو پیٹرول اور دیگر ایندھن میں تبدیل کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت سعودی عرب، جنوبی کوریا اور پاکستان کے سرمایہ کاروں کے درمیان پانچ ارب ڈالر کے معاہدے طے پا گئے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت سعودی تعمیراتی کمپنی تمیّز الشفاف للمقاولات اور جنوبی کوریا کی کمپنی AKS Information Co., Ltd کے درمیان تعاون کا معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق دمام کے علاقے الجنر میں تین ارب ڈالر کی لاگت سے ایک جدید فیکٹری قائم کی جائے گی۔ اس فیکٹری میں جدید کوریائی ٹیکنالوجی کے ذریعے پلاسٹک کچرے کو پیٹرول اور دیگر ایندھن میں تبدیل کیا جائے گا۔

مزید معاہدوں کے نتیجے میں منصوبے کی مجموعی لاگت پانچ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جن میں سعودی صنعتی ادارہ شركة مقياس الصناعية بھی شامل ہے۔ منصوبے کے منتظمین کے مطابق یہ منصوبہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ معاہدے ایک ایم او یو دستخطی تقریب کے دوران طے پائے، جس میں سعودی عرب کی جانب سے نائف الشمری، پاکستان کی جانب سے معروف کاروباری شخصیت محمد عثمان مولوی جبکہ جنوبی کوریا کی جانب سے مسٹر EO Keying In اور طارق ملک نے معاہدوں پر دستخط کیے۔
منصوبے کے ذمہ داران کے مطابق یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور اس پر عملی کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔

