کراچی:
پرو اے آئی گلوبل (Pro AI Global) کی جانب سے خواتین کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایک اور منفرد اقدام “AI for Her” کا کامیاب انعقاد کراچی میں کیا گیا، جو روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 3271 کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ اس خواتین کے لیے مخصوص پروگرام میں 100 سے زائد خواتین نے شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت پر تربیت، مکالمہ اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو فروغ دیا گیا۔

اس اقدام کی قیادت پاکستان کی پہلی خاتون اے آئی ٹرینر اور روٹری ڈسٹرکٹ اے آئی چیئر عمّارہ آفتاب نے کی۔ یہ فلیگ شپ ایونٹ Women in AI Connect – AI for Her 2026 کے عنوان سے سینٹر آف ایکسی لینس اِن گیمنگ اینڈ اینیمیشن (CEGA) میں منعقد ہوا۔
تقریب میں ممتاز مقررین نے شرکت کی جن میں روٹری میں خواتین اور شمولیت کی سربراہ محترمہ دردانا شامل تھیں، جنہوں نے ابھرتی ٹیکنالوجیز میں خواتین کے لیے محفوظ اور جامع پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا۔ ماہرِ تعلیم و مقرر محجبین الوینا نے سیکھنے، مثبت سوچ اور اخلاقی ذمہ داری پر روشنی ڈالی، جبکہ پرو اے آئی گلوبل کے کو-چیئرپرسن فراز حسین نے کمیونٹی کی سطح پر ذمہ دار اے آئی ترقی کی اہمیت بیان کی۔

ایونٹ کا نمایاں سیشن عمّارہ آفتاب کا تھا، جس کا عنوان “AI Vampires: How Intelligent Systems Drain Women’s Time, Privacy & Power” تھا۔ اس سیشن میں ڈیٹا کے غلط استعمال، الگورتھمک تعصب، ڈیجیٹل نگرانی، آن لائن ہراسانی اور غیر اخلاقی اے آئی کے خواتین پر غیر متناسب اثرات جیسے حساس مگر اہم موضوعات پر کھل کر گفتگو کی گئی۔
یہ اقدام پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی، یونیسکو کے اخلاقی اے آئی فریم ورک اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) — خصوصاً SDG 4، 5، 8، 9 اور 10 — سے ہم آہنگ تھا۔

روٹری انٹرنیشنل کے نمائندوں نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو اخلاقیات، شمولیت اور سماجی خدمت کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے، اور منصفانہ و انسان دوست اے آئی کے لیے خواتین کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایونٹ میں شریک تمام 100 سے زائد خواتین کو سرٹیفکیٹس دیے گئے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ یہ پروگرام طویل المدتی سیکھنے اور صلاحیت سازی پر مرکوز تھا۔
AI for Her کے ذریعے پرو اے آئی گلوبل پاکستان میں خواتین کی قیادت میں اخلاقی اور جامع اے آئی ایکو سسٹم کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔

