ریاض، سعودی عرب-
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یو ای ٹی المنائی آف سعودی عرب چیپٹر (UETAS) کے زیرِ اہتمام ایک کامیاب نیٹ ورکنگ ایونٹ منعقد کیا گیا، جس میں مملکت میں مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے وابستہ ممتاز پاکستانی انجینئرز، ماہرین اور پروفیشنلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے سفیر برائے سعودی عرب جناب احمد فاروق تھے، جبکہ معروف ٹرینر اور موٹیویشنل اسپیکر سید قاسم علی شاہ نے بھی خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔

ایونٹ میں مظہر حسین (صدر UETAS)، عاصم جمیل (وائس پریزیڈنٹ UETAS)، جواد علی (جنرل سیکریٹری UETAS)، محسن علی زین (چیئر ریاض چیپٹر UETAS)، عدنان لغاری (وائس چیئر UETAS) اور انجینئر طارق شہزاد نے شرکت کی، جنہوں نے تقریب کے انتظام و انصرام میں اہم کردار ادا کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیرِ پاکستان احمد فاروق نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی انجینئرز اور پروفیشنلز پاکستان کا مثبت اور روشن تشخص اجاگر کر رہے ہیں اور سعودی عرب کی ترقی اور وژن 2030 میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ UETAS جیسے مضبوط المنائی نیٹ ورکس تجربات کے تبادلے، نوجوان پروفیشنلز کی رہنمائی اور قومی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

سفیرِ پاکستان نے مزید کہا کہ ایسے نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز نوجوان انجینئرز کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کرنے اور تعلیمی و فنی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے UETAS کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

سفیرِ پاکستان نے مزید کہا کہ ایسے نیٹ ورکنگ فورمز نوجوان انجینئرز کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور تعلیمی و فنی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے یو ای ٹی المنائی ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

تقریب کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی انجینئرز کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو اجاگر کرنا اور ان کے درمیان باہمی تعاون اور روابط کو مضبوط بنانا تھا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان انجینئرز کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور مستحق و باصلاحیت طلبہ کے لیے نجی سطح پر وظائف (اسکالرشپس) کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔

