ریاض، سعودی عرب –: سعودی وزارتِ ثقافت کے تحت قائم ہیریٹیج کمیشن نے ریاض ریجن کے گورنریٹ الدوادمی میں واقع ہِلّیت (Hillit) آثارِ قدیمہ کے مقام پر جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے چوتھے مرحلے کے دوران ہونے والی نئی اور اہم دریافتوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ مملکت کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے، اس کی دستاویز سازی اور عالمی سطح پر اس کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔

الدوادمی گورنریٹ سے تقریباً 110 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہِلّیت ایک قدیم کان کنی کی بستی ہے، جسے ریاض ریجن کے قومی رجسٹر برائے آثارِ قدیمہ میں شامل کیا گیا ہے۔
کھدائی کے چوتھے مرحلے میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جدید سائنسی طریقۂ کار کے ذریعے 18 تعمیراتی یونٹس دریافت کیے، جن میں مختلف سائز کے کمرے اور راہداریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں تاریخی نوادرات بھی برآمد ہوئے۔

نمایاں دریافتوں میں ایک نادر پتھریلا وزنی پیمانہ شامل ہے، جس پر ابتدائی خطِ جزم (Jazm Script) میں "رطل” تحریر ہے، جو اسلامی دور میں وزن کی ایک معروف اکائی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ نوادر پہلی یا دوسری صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے۔

دیگر دریافتوں میں دھاتی کنگن کا ایک حصہ، مختلف رنگوں اور اشکال کے موتی، سادہ اور چمکدار مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، صابونی پتھر سے بنے برتن، شیشے کی بوتلوں کے اجزاء، اور پتھر کے اوزار، جن میں چکیاں اور موسل شامل ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ نئی دریافتیں گزشتہ کھدائیوں کے نتائج کی توثیق کرتی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہِلّیت کی یہ بستی پہلی صدی ہجری میں آباد اور خوشحال تھی، جبکہ اس کے دوسری صدی ہجری تک آباد رہنے کے بھی شواہد ملے ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت بھر میں آثارِ قدیمہ کے سروے اور کھدائی کے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ تاریخی مقامات کی دستاویز سازی، تحفظ اور بحالی کے اقدامات کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے قومی شناخت اور تاریخ کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔

