ہر کامیاب انسان کی زندگی میں ایک ایسا سفر ضرور ہوتا ہے جس میں خواب، مسلسل جدوجہد، بے شمار آزمائشیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین شامل ہوتا ہے۔ ۔ تسیف گورایہ کی زندگی بھی اسی حقیقت کا عملی نمونہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی قسمت خود لکھی بلکہ اپنی کامیابی کو دوسروں کی ترقی کا ذریعہ بھی بنایا۔
تسیف گورایہ کا تعلق پاکستان سے ہے، جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم فل کی ڈگری مکمل کی۔ تعلیم کے بعد انہوں نے نوجوان نسل کو علم کی روشنی فراہم کرنے کے لیے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی، جبکہ ساتھ ہی ایک نجی ادارے میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ تدریس اور اکاؤنٹنگ کے اس تجربے نے ان کی شخصیت میں نظم و ضبط، قیادت، ذمہ داری اور کاروباری بصیرت کو مزید نکھارا۔
سن 2013 میں انہوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں سعودی عرب کا رخ کیا۔ ایک ریکروٹمنٹ ایجنٹ کی رہنمائی میں انہوں نے اکاؤنٹنٹ کی ملازمت کے لیے انٹرویو دیا، اپنی قابلیت کے باعث کامیاب قرار پائے اور ایک معروف سعودی کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔

اگرچہ ملازمت مستحکم تھی، مگر تسیف گورایہ کا وژن صرف ایک ملازم بن کر رہ جانا نہیں تھا۔ محض چھ ماہ بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے خواب اور اہداف اس دائرے سے کہیں بڑے ہیں، لہٰذا انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ بظاہر یہ ایک پرخطر فیصلہ تھا، مگر یہی ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔
ان کی خود اعتمادی، صلاحیت اور واضح وژن سے متاثر ہو کر ایک سعودی سرمایہ کار نے ان پر اعتماد کیا اور سرمایہ فراہم کیا۔ دونوں نے مارکیٹ کا گہرائی سے تجزیہ کیا، مختلف صنعتوں کا جائزہ لیا اور بالآخر پیپر کپ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو اپنے کاروبار کے لیے منتخب کیا۔

سن 2018 میں انہوں نے اس صنعت میں عملی طور پر کام کا آغاز کیا۔ ابتدائی تین برسوں میں انہوں نے اپنے سعودی پارٹنر کے ساتھ انتھک محنت، تحقیق اور جدید کاروباری حکمت عملی کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنایا۔ مسلسل جدوجہد اور مؤثر منصوبہ بندی کے نتیجے میں سن 2020 میں انہوں نے اپنی کمپنی اپنے نام اور کمرشل رجسٹریشن (CR) کے تحت رجسٹر کروا کر ایک آزاد صنعتی ادارے کی بنیاد رکھ دی۔ آج بھی ان کے پہلے سعودی پارٹنر کا اس کاروبار میں تقریباً 20 فیصد حصہ موجود ہے، جو باہمی اعتماد، شفافیت اور مضبوط شراکت داری کی روشن مثال ہے۔

کاروبار کی ترقی کے ساتھ انہوں نے اپنی زمین پر جدید صنعتی یونٹس قائم کیے اور اپنی کمپنی کو ایک بڑے صنعتی ادارے میں تبدیل کر دیا۔ آج الحمدللہ سعودی عرب میں ان کی چھ جدید فیکٹریاں کامیابی سے کام کر رہی ہیں، جو ریاض، جدہ اور دمام میں قائم ہیں۔ ان کی مصنوعات نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیجی ممالک (GCC) اور مشرقِ وسطیٰ کی مارکیٹوں تک پہنچ رہی ہیں۔ سعودی عرب کے متعدد سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے ان کے مستقل صارفین میں شامل ہیں، جبکہ اعلیٰ معیار، بروقت فراہمی اور جدید پیداواری نظام نے ان کے برانڈ کو نمایاں مقام عطا کیا ہے۔

تسیف گورایہ نے اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ جب ان کا کاروبار مستحکم ہوا تو انہوں نے پاکستان میں موجود اپنے دو بھائیوں، جو وکالت کے شعبے سے وابستہ تھے، کو سعودی عرب بلا لیا۔ ایک بھائی کو دمام اور دوسرے کو جدہ کی فیکٹری کی ذمہ داری سونپی۔ بعد ازاں دونوں کے نام پر الگ الگ کمرشل رجسٹریشن (CR) حاصل کروائے تاکہ وہ اپنی اپنی کمپنیوں کے مالک بن سکیں۔ آج دونوں بھائی کامیاب کاروباری شخصیات کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ حقیقی کامیابی وہ ہے جو دوسروں کو بھی کامیاب بنائے۔
انہوں نے صرف اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ بے شمار پاکستانی اور دیگر سرمایہ کاروں کی بھی رہنمائی کی، جو سعودی عرب میں اپنے نام سے کاروبار قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کاروباری منصوبہ بندی، مارکیٹ ریسرچ، قانونی تقاضوں، سرمایہ کاری اور اپنے نام پر کمرشل رجسٹریشن (CR) حاصل کرنے کے ہر مرحلے میں عملی رہنمائی فراہم کی۔ آج متعدد کامیاب کاروباری افراد انہیں اپنی کامیابی کا رہنما اور مینٹور قرار دیتے ہیں۔

تسیف گورایہ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز مسلسل تحقیق، سیکھنے کی لگن اور جدت کی تلاش ہے۔ وہ ہمیشہ مارکیٹ میں موجود ایسے مواقع (Market Gaps) تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی، جدید مصنوعات یا منفرد کاروباری ماڈلز متعارف کروائے جا سکیں۔ ان کی سوچ ہمیشہ مستقبل پر مرکوز رہتی ہے اور وہ ہر نئی تبدیلی کو کاروباری ترقی کا ایک نیا موقع سمجھتے ہیں۔
اسی فلسفے کے تحت وہ مصنوعی ذہانت (AI)، جدید آٹومیشن، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل سسٹمز اور عالمی صنعتی رجحانات پر مسلسل تحقیق کرتے ہیں۔ جدید مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنی فیکٹریوں میں نافذ کر کے وہ پیداوار، معیار اور استعداد میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ یہی جدت، تحقیق اور وژن ان کے کاروبار کو سعودی عرب اور پورے خلیجی خطے کے نمایاں صنعتی اداروں میں شامل کیے ہوئے ہے۔

تسیف گورایہ کا ماننا ہے کہ بیرونِ ملک آنے والے نوجوان صرف ملازمت تک اپنے خوابوں کو محدود نہ رکھیں بلکہ جس ملک میں جائیں وہاں کی مارکیٹ، ضروریات اور نئے مواقع کو سمجھیں، تحقیق کریں اور ایسی جدت متعارف کروائیں جو حقیقی تبدیلی لا سکے۔ ان کے مطابق محنت، دیانت داری، مسلسل سیکھنے کی لگن اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ انسان کو وہ کامیابیاں عطا کرتا ہے جن کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کرتا۔
آج تسیف گورایہ ایک کامیاب صنعت کار، وژنری کاروباری رہنما، نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ اور بے شمار نئے کاروباری افراد کے لیے ایک قابلِ اعتماد مینٹور بن چکے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جو انسان بڑے خواب دیکھتا ہے، مسلسل سیکھتا ہے، تحقیق کو اپنا شعار بناتا ہے، دوسروں کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور ہر نئے دن کو ایک نئے موقع کے طور پر قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی محنت کو ایسی کامیابیوں میں بدل دیتا ہے جو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ اس کے خاندان، اس کے اداروں اور پورے معاشرے کے لیے ترقی، خوشحالی اور امید کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

