ریاض: ورلڈ ای ایس جی سمٹ (World ESG Summit) کا چھٹا ایڈیشن ریاض، سعودی عرب میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ماہرین، رہنما اور اداروں نے شرکت کی۔ اس ایونٹ نے پاکستان کے مثبت عالمی کردار کو اجاگر کیا۔ پاکستانی وفد میں عدنان رفیق احمد نے ماڈریٹر کے طور پر، عتیق باجوہ نے اسپیکر کے طور پر، اور جویریہ اسد نے میزبان کے طور پر شرکت کی۔

سمٹ کا مرکزی موضوع ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) اہداف پر مبنی تھا، جس کا مقصد پائیدار ترقی کو فروغ دینا، کاربن کے اخراج میں کمی لانا اور جدت طرازی کے ذریعے معیشتوں کو مضبوط بنانا تھا۔


پپاکستانی وفد کی نمائندگی عدنان رفیق احمد نے کی، جنہوں نے ماہرین کے پینل — سلطان فادن، سیف فرید عنانی، اور ڈاکٹر ریِم التُرکی — کے ساتھ مکالمے میں سرکلر اکانومی (Circular Economy) پر روشنی ڈالی، جس میں پیداوار اور ریٹیل سیکٹر میں فضلہ کم کرنے، پائیدار سپلائی چین کو فروغ دینے اور وسائل کے مؤثر استعمال کی حکمتِ عملیوں پر بات کی گئی۔

ورلڈ ای ایس جی سمٹ کے اس کامیاب چھٹے ایڈیشن کی میزبانی یونس امین اور عقیب شاہ نے کی۔ تقریب میں مختلف صنعتوں کے ماہرین اور رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں احمد عجبنور، عبداللہ الغامدی، مریم فیکوسیلو، علی شاکر، فیونا نائف القحطانی، عبدالرحمن باملان، سمر العمر، علاء عبدالعال، خالد شيبارو، كسينيا لوپاتكينا، ہدیٰ الدبل، عزت علی خان، ڈاکٹر محمد الشافعی، الفونسو سینیٹور، چارلس عساف، پتیل مسروبیان، میلون گیلیٹ اور دیگر شامل تھے۔
عدنان رفیق احمد نے زور دیا کہ پاکستانی اور سعودی نوجوانوں کو ای ایس جی سے متعلق تحقیق اور عملی منصوبوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ای ایس جی ماڈلز تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ان کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ “آج کی تیاری کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔”

