پاکستانی پکوان اپنی بے مثال لذت، خوشبو اور ذائقے کی بدولت دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں کاروبار کے وسیع مواقع میسر ہیں جن سے پاکستانی کاروباری حضرات بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پاکستان کے سب سے بڑے ریستوران ’دعوتِ مجبور‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا، جس نے اپنی انفرادیت اور اعلیٰ معیار کے باعث پاکستانی و سعودی کمیونٹی میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر لی ہے۔

افتتاحی تقریب میں سعودی شہریوں کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ ریستوران کا افتتاح سفارت خانہ پاکستان کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نجم نواز ثاقب نے سفیر پاکستان احمد فاروق کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نجم نواز ثاقب نے کہا کہ پاکستانی کھانے نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ سعودی عرب میں پاکستان کی ثقافت، روایات اور مہمان نوازی کو اجاگر کرنے کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ’دعوتِ مجبور‘ کو پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات میں ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا۔

ریستوران کے بانی محمد زرین مجبور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’دعوتِ مجبور‘ کا بنیادی مقصد پاکستانی مہمان نوازی، ثقافت اور روایتی ذائقوں کو سعودی عوام تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریستوران کمیونٹی کے درمیان اتحاد، تعاون اور مثبت روابط کی علامت بنے گا۔

تقریب سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے کہا کہ اس نوعیت کے معاشی و تجارتی منصوبے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سعودی حکومت کے تعاون کا واضح ثبوت ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں سفارت خانہ پاکستان کے افسران، مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی اور ریستوران کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔

