درعیہ، – درعیہ سیزن 25/26 کے تحت آج الطریف تاریخی ضلع میں ہل القصور پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ یہ علاقہ 2010ء (1431ھ) سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور دنیا کے سب سے بڑے مٹی کے تعمیر شدہ اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔

یہ پروگرام روزانہ شام 4 بجے سے زائرین کے لیے کھلا رہے گا اور اس کے تحت پہلی مرتبہ ائمہ اور شہزادوں کے کئی تاریخی محلات عوام کے لیے کھولے گئے ہیں۔ تھیٹر پرفارمنس، براہِ راست کہانی سنانے، اور انٹرایکٹو تجربات کے ذریعے پہلی سعودی ریاست کے دور میں درعیہ کی انتظامی، سماجی اور ثقافتی زندگی کو زندہ کیا گیا ہے، جن میں روایتی مجالس، سرکاری استقبالیے اور خاندانی تقریبات شامل ہیں۔

الطریف تاریخی ضلع اپنی مستند نجدی طرزِ تعمیر اور قیادت و حکمرانی کے مرکز کے طور پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ امام عبدالعزیز بن محمد بن سعود نے 1180ھ / 1766ء میں وادی حنیفہ کے مغربی کنارے پر اس مقام کا انتخاب کیا۔ اس ضلع میں 13 محلات اور 5 مساجد شامل ہیں، جن میں قصر سلوٰی، سبلة موضی، بیت المال، جامع الطریف اور حمام الطریف نمایاں ہیں، جو اس دور میں درعیہ کے باشندوں کے اعلیٰ معیارِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

زائرین چھ تاریخی محلات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، جن میں ہر محل ایک منفرد علامتی پیغام رکھتا ہے۔ امام عبداللہ بن سعود کا محل استقامت کی علامت ہے، شہزادہ ترکی بن سعود بن عبدالعزیز کا محل بہادری اور صبر کی نمائندگی کرتا ہے، شہزادہ ثنیان بن سعود بن محمد کا محل علم کی علامت ہے، شہزادہ مشاری بن سعود بن محمد کا محل وقار،
شہزادہ سعد بن سعود بن عبدالعزیز کا محل تعمیرات اور جدت، جبکہ شہزادہ ناصر بن سعود بن عبدالعزیز کا محل تجارتی قافلوں کے تحفظ اور سلامتی کی علامت ہے۔

ہل القصور پروگرام درعیہ سیزن کا ایک اہم ستون ہے جو ماضی اور حال کے درمیان پل قائم کرتا ہے، سعودی قیادت کے تاریخی ورثے کو محفوظ بناتے ہوئے مقامی اور بین الاقوامی زائرین کو ایک منفرد اور یادگار ثقافتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔


