ریاض ( رانا عظیم) سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے فخر کا لمحہ، جب پاکستانی مصنف عدنان رفیق احمد کی کتاب “Happiness: A Way of Life” ریاض میں متعارف کرائی گئی، جس سے ہر عمر کے قارئین متاثر ہوئے۔ یہ تقریب VCEO کے سہ ماہی ایونٹ کے ساتھ کامیابی سے منعقد ہوئی۔پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی اور تقریب کو بے حد سراہا، جس میں اس پروگرام کے معاشرتی اثرات کو بھی سراہا گیا۔

مقررین نے کتاب کی اہمیت اجاگر کی، خاص طور پر موجودہ دور میں جہاں ذہنی دباؤ اور پریشانی عام ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب صرف تحریک دینے والی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی پیش کرتی ہے، جو متوازن اور پُرسکون زندگی گزارنے کے اصول فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ بچے بھی اس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس سے مثبت اثرات حاصل کر رہے ہیں،

جس سے ان کے رویے، سوچ اور عادات میں بہتری آ رہی ہے۔خصوصی سوال و جواب کے سیشن میں ہر عمر کے افراد، بشمول بچوں نے بھرپور حصہ لیا۔یاسمین خرم نے سوال کیا کہ “زندگی کے سات پہلو (Seven Planets of Life)” کا تصور کہاں سے آیا؟ جواب دیا گیا کہ یہ زندگی بھر سیکھنے (Life-long Learning) کے تجربے کا نتیجہ ہے، جب کنگ سعود یونیورسٹی (KSU) میں ہفتہ وار پریزنٹیشنز اور مباحثے ہوتے تھے، انہی میں خوشحال زندگی کے سات پہلو سامنے آئے، جو 2008–2009 کا دور تھا۔حمزہ احمد نے سوال کیا کہ یہ کتاب کیوں لکھی گئی حالانکہ مصنف دیگر شعبوں میں بھی ماہر ہیں؟ جواب میں بتایا گیا کہ “Happiness: A Way of Life” آج کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے تاکہ لوگ اپنی اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی میں خوشی پیدا کر سکیں، جبکہ بزنس کنٹینیوٹی، پروجیکٹ مینجمنٹ اور کرائسز مینجمنٹ جیسی مہارتیں بھی موجود ہیں۔بچی مریم عدنان نے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ بچپن میں مصنف کیا کرتے تھے؟ جواب میں بتایا گیا کہ ہم بھی شرارتیں کرتے تھے، لیکن اتنی نہیں کہ بہت زیادہ مسائل پیدا ہوں، جس سے حاضرین کے چہروں پر مسکراہٹ آئی۔

تقریب میں VCEO کے تعلیمی اقدامات کو بھی سراہا گیا، جن کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں میں مطالعہ کا رجحان پیدا کیا جاتا ہے۔مزید برآں، “Creative Work Appreciation” سیشن میں مختلف ممالک کے افراد کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا گیا۔
نمایاں شخصیات میں شامل تھے: عدنان رفیق احمد، میاں محمد اکرم، اعجاز الرائے، نزار الترکی، سعود السہلی، کرنل عرفان، مسعود خان، محمد انصر، خرم منصور، راسب زاہد، اور ارسلان وارس۔تقریب اختتام پذیر ہوئی اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا، اور امید ظاہر کی گئی کہ مستقبل میں بھی ایسے مثبت اور تعمیری پروگرامز جاری رہیں گے۔

