تحریر: کامران اشرف
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں، جہاں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، پانی کی کمی اور آلودگی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، ایک شخص گزشتہ تین دہائیوں سے ماحولیات کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے میں مصروف ہے۔

چونیاں سے تعلق رکھنے والے محمد منشہ ساجد ایک گراس روٹس ماحولیاتی کارکن ہیں، جنہوں نے 30 سال سے زائد عرصہ ماحول کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کا کام کسی بڑے ادارے یا فنڈنگ کے بجائے مستقل مزاجی، ذاتی روابط اور عوامی شمولیت پر مبنی ہے۔
انہوں نے مختلف شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں ہزاروں کلومیٹر پیدل سفر کیا تاکہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ ماحول کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں، کالجوں اور عوامی مقامات پر جا کر براہ راست لوگوں سے بات کرتے ہیں۔

وہ بچوں کو درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کی ترغیب دیتے ہیں، مذہبی تعلیمات کے ذریعے ماحول کے تحفظ کو اجاگر کرتے ہیں اور نوجوانوں کو عملی اقدامات کی جانب راغب کرتے ہیں۔ وہ خود بھی شجرکاری مہمات، آگاہی پروگرامز اور کمیونٹی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔
ان کی کوششوں کے نتیجے میں رضاکاروں، کسانوں، طلبہ اور مقامی افراد کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے جو ماحولیاتی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے۔
چونیاں میں بابا جانے خان فارم پر دوسری سالانہ ماحولیاتی کانفرنس کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ماحولیات کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے اور نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات دیے جائیں گے۔

