ریاض — علم و ادب کا ایک درخشاں باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ سعودی عرب میں طویل عرصہ سے مقیم ہر دلعزیز ادبی و سماجی شخصیت ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر سعودی عرب، پاکستان اور دنیا بھر سے مختلف سیاسی، سماجی، ادبی اور صحافتی شخصیات اور تنظیموں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر ریاض چوہدری نے اپنی زندگی ادب کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کا بنیادی تعلق جہلم سے تھا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کیا جبکہ امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب اسمبلی میں ملازمت اختیار کی اور بعدازاں سعودی عرب منتقل ہوگئے، جہاں وہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن، کنگ عبدالعزیز لائبریری اور کنگ فہد لائبریری میں تعینات رہے۔ سعودی عرب میں وہ پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل اسکول ریاض کی مینجمنٹ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ گزشتہ 42 برسوں سے وہ شعراء و ادباء کی معروف تنظیم عالمی حلقۂ فکر و فن سے وابستہ رہے اور بطور چیئرمین انہوں نے ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ مشاعروں کے انعقاد اور اردو ادب کی ترویج ان کی پہچان تھی۔ ان کے دو شعری مجموعوں سمیت دیگر کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں سعودی حکومت کی جانب سے دو پروفیشنل کتب کا اجرا بھی شامل ہے۔

سفارت خانہ پاکستان اور کمیونٹی کے درمیان بھی ان کا مقام منفرد رہا۔ وہ سعودی عرب کی معروف سماجی تنظیم مجلسِ پاکستان کے بھی رکن تھے۔ گزشتہ چند برسوں سے وہ امریکہ میں مقیم تھے جہاں انہوں نے عالمی حلقۂ فکر و فن کے زیر اہتمام متعدد ادبی تقریبات کا انعقاد کیا۔ امریکہ میں قیام کے باوجود ان کا سعودی عرب آنا جاری رہا اور ریاض پہنچتے ہی ادبی محافل کا انعقاد ان کی اولین ترجیح ہوتی تھی۔
انہوں نے نہ صرف اپنے قلم کے ذریعے ادب کی خدمت کی بلکہ مالی طور پر بھی ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کی۔ اس کے علاوہ وہ سماجی اور فلاحی بہبود کے کاموں میں بھی پیش پیش رہے۔

دو ہفتے قبل وہ امریکہ سے سعودی عرب آئے تھے اور اپنے بیٹے کے ہاں مقیم تھے۔ گزشتہ روز اچانک حرکتِ قلب بند ہونے سے وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ بدھ کو ریاض میں ادا کی جائے گی اور انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
