ظہران، 2 جولائی 2026 – شاہ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر (اثراء) میں جاری بارہویں سعودی فلم فیسٹیول کی سرگرمیاں بدھ کے روز بھی بھرپور انداز میں جاری رہیں۔ یہ فیسٹیول سینما ایسوسی ایشن کی جانب سے مرکزِ اثراء کے اشتراک اور فلم کمیشن کی معاونت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
دن بھر کے پروگرام میں 14 فلمیں پیش کی گئیں، جن میں فیچر فلموں کے مقابلے، دستاویزی فلموں کے مقابلے، "سینما آف جرنی” سیکشن، "اسپاٹ لائٹ آن کورین سینما” کے علاوہ ماہرین سے ملاقات اور فلم سازوں کے ساتھ خصوصی مکالمے شامل تھے۔
بدھ کے پروگرام میں دستاویزی فلموں کا نمایاں غلبہ رہا، جن میں شناخت، ثقافتی ورثہ، روایتی فنون، کھیل، غوطہ خوری، سائبر سیکیورٹی اور فنکاروں کی زندگیوں جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا، جبکہ فیچر فلموں میں نفسیاتی سنسنی، رومانوی کامیڈی، فینٹسی اور پراسرار کہانیوں کو پیش کیا گیا۔
فیچر فلموں کے مقابلے میں اماراتی ہدایت کارہ نائلہ الخاجہ کی فلم "باب” کا سعودی عرب میں پہلی مرتبہ پریمیئر ہوا، جبکہ سعودی ہدایت کار انس بطاحف کی فلم "مسئلۂ حیات یا موت” بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
دستاویزی فلموں کے مقابلے میں "ملک الأكتاف”، "مرجوج هزازي”، "ضباب البارود”، "عمق”، "فريحة” اور "بقشة سعد” سمیت چھ فلمیں دکھائی گئیں، جنہوں نے سعودی ثقافت، روایات، فنون اور نمایاں شخصیات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔

"سینما آف جرنی” پروگرام کے تحت چین، فرانس، مصر، عراق اور امریکہ کی پانچ فلمیں پیش کی گئیں، جبکہ "اسپاٹ لائٹ آن کورین سینما” میں ہدایت کار رو یونگ وان کی فلم "ہیلو” پہلی مرتبہ عرب دنیا میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
فیسٹیول کے دوران "لقاء الخبراء” (ماہرین سے ملاقات) پروگرام بھی جاری رہا، جس کے تحت فلم سازوں کو پروڈکشن، ہدایت کاری، منصوبہ بندی، تنقید اور اسکرین رائٹنگ کے شعبوں کے ماہرین سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا، جبکہ فلموں کی نمائش کے بعد ہدایت کاروں کے ساتھ سوال و جواب کی نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔

دوسری جانب پروڈکشن مارکیٹ نے ریکارڈ کامیابیوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس سال 51 ایوارڈز دیے گئے جن کی مجموعی مالیت 40 لاکھ سعودی ریال سے زائد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس دوران فلم سازوں اور پروڈکشن اداروں کے درمیان 48 شراکتی ملاقاتیں بھی منعقد ہوئیں۔
اب تمام نظریں سعودی فلم فیسٹیول کی بارہویں اختتامی تقریب پر مرکوز ہیں، جہاں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو فیسٹیول کے ممتاز گولڈن پام (نخلہ) ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔

