ظہران، سعودی عرب –: شاہ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت (اثراء) کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ’’اقرأ‘‘ مقابلۂ مطالعہ کے گیارہویں ایڈیشن میں ریکارڈ تعداد میں طلبہ و طالبات نے رجسٹریشن کروائی ہے۔ دنیا کے 61 ممالک سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 84 ہزار طلبہ نے مقابلے میں شرکت کے لیے اندراج کیا، جو مقابلے کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے اور گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں 100 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

سعودی آرامکو کے اقدام ’’اثراء‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ مقابلہ عرب دنیا کے سب سے بڑے ثقافتی مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا مقصد عرب دنیا میں مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینا، ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کرنا، ان کی علمی و لسانی مہارتوں کو نکھارنا اور علم و ثقافت کے میدان میں نئی نسل کے لیے مثالی شخصیات تیار کرنا ہے۔
مقابلے کے مختلف مراحل ہیں۔ رجسٹریشن کے بعد شریک طلبہ اپنی پسند کی کسی بھی کتاب، خواہ افسانوی ہو یا غیر افسانوی، کا انتخاب کرتے ہیں اور اس پر ایک تحریری جائزہ پیش کرتے ہیں جس میں کتاب کا خلاصہ، ذاتی رائے، انتخاب کی وجوہات اور مطالعے کے تجربات شامل ہوتے ہیں۔ ماہرین پر مشتمل کمیٹی ان تحریروں کا جائزہ لے کر بہترین امیدواروں کا انتخاب کرتی ہے، جو جولائی 2026 میں منعقد ہونے والے انٹرویوز کے مرحلے میں شرکت کے اہل قرار پاتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران امیدواروں کی کتاب سے متعلق فہم، اظہارِ خیال، لسانی صلاحیتوں اور مطالعے سے وابستگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کامیاب امیدوار ’’اثراء علمی فورم‘‘ میں شرکت کرتے ہیں، جہاں انہیں ممتاز ادیبوں، مفکرین اور دانشوروں کے زیرِ قیادت لیکچرز، ورکشاپس اور علمی مکالموں پر مشتمل منفرد تعلیمی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

یہ فورم 19 جولائی سے 15 اگست 2026 تک منعقد ہوگا، جس میں عرب دنیا کے منتخب قارئین شریک ہوں گے۔ ابتدائی اور متوسط درجے کے طلبہ کے لیے ایک ہفتے جبکہ ثانوی اور جامعاتی سطح کے طلبہ کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ فورم کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء دسمبر 2026 میں منعقد ہونے والی اختتامی تقریب کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
مقابلے کے ہر مرحلے میں مخصوص معیار اپنائے جاتے ہیں، جن میں کتاب کے مؤثر تجزیے کی صلاحیت، زبان کی درستگی، مطالعے سے شغف، تنقیدی اور تجزیاتی سوچ، مؤثر ابلاغ اور خیالات کی واضح پیشکش شامل ہیں۔
’’اقرأ‘‘ مقابلہ صرف نمایاں قارئین کی نشاندہی تک محدود نہیں بلکہ انہیں اپنی نسل کے لیے رول ماڈل کے طور پر متعارف کرانے کا بھی ذریعہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد معاشرے میں مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور طلبہ و طالبات کو کتاب خوانی کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ علم اور مطالعے کی ثقافت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اختتام

