احمد الملا: "یہ راستہ کبھی اُن لوگوں سے خالی نہیں ہوتا جو اس پر سفر کرتے ہیں – سعودی فلم فیسٹیول کے 12ویں ایڈیشن کا اختتام، فاتحین کا اعلان. ہجرہ” نے بہترین فیچر فلم کا گولڈن پام ایوارڈ جیت لیا، جبکہ عبدالمحسن الذبعان آئندہ ایڈیشن کے آرٹسٹک ڈائریکٹر مقرر

ظہران، 3 جولائی 2026:- سعودی فلم فیسٹیول کے 12ویں ایڈیشن کا اختتامی انعقاد جمعرات کی شام شاہ عبدالعزیز سینٹر برائے عالمی ثقافت (اثراء) میں ہوا، جو سعودی آرامکو کا ایک ثقافتی اقدام ہے۔ یہ میلہ 26 جون سے 2 جولائی 2026 تک جاری رہا، جس کا اہتمام سینما ایسوسی ایشن نے اثراء کے اشتراک اور فلم کمیشن کی معاونت سے کیا۔ اختتامی تقریب اثراء تھیٹر میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی اداکار فیصل الدوخی اور میڈیا شخصیت سہا الوعل نے کی۔ تقریب میں سرکاری مقابلوں کے فاتحین کا اعلان کیا گیا، جبکہ آئندہ ایڈیشن سے متعلق کئی اہم اعلانات بھی کیے گئے۔

تقریب کا آغاز ایک خصوصی ویڈیو سے ہوا جس میں فیسٹیول کے یادگار لمحات، فلمی نمائشوں، پروگراموں، مکالموں اور مختلف سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں فیسٹیول کے ڈائریکٹر اور معروف شاعر احمد الملا نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے فلموں، فلم سازوں اور ناظرین کے باہمی تعلق اور اس ایڈیشن کی دیرپا یادوں پر روشنی ڈالی۔

ہر کہانی ایک سفر ہے کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس ایڈیشن میں ایک ہفتے کے دوران فلمی نمائشوں، پیشہ ورانہ پروگراموں اور علمی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال فیچر، مختصر اور دستاویزی فلموں کے مقابلوں سمیت مجموعی طور پر 50 فلمیں پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ "کوریائی سینما پر خصوصی توجہ”، "روڈ سنیما” پروگرام، پروڈکشن مارکیٹ، سیمینارز، ماسٹر کلاسز، ماہرین سے ملاقاتوں اور سعودی سینما انسائیکلوپیڈیا کی کتابوں کی تقریبِ رونمائی بھی فیسٹیول کا حصہ رہیں۔

فیچر فلم مقابلہ
ہدایت کار شہد امین کی فلم ہجرہ نے بہترین فیچر فلم کا گولڈن پام ایوارڈ حاصل کیا۔اداکارہ سارہ طیبہ کو فلم زندگی اور موت کا معاملہ میں بہترین اداکاری پر گولڈن پام ایوارڈ سے نوازا گیا۔بہترین خلیجی فیچر فلم کا گولڈن پام ایوارڈ محمد الدراجی کی فلم ارکالا: گلگامش کا خواب کے نام رہا، جبکہ جیوری نے انس باطحف کی فلم **”زندگی اور موت کا معاملہ”** کو خصوصی اعزاز (Special Mention) سے نوازا۔
مختصر فلم مقابلہ
ابراہیم الغامدی کی فلم مجہول نے بہترین مختصر فلم کا گولڈن پام ایوارڈ جیتا۔لجین سلام کی فلم چیونٹی کی چیخ کو عبداللہ المحیسن پہلی فلم ایوارڈ دیا گیا۔سلمان یوسف کی فلم بیج نے بہترین خلیجی مختصر فلم کا گولڈن پام ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ رولینڈ حسن اور سارہ مصری کی فلم الستر کو جیوری کی جانب سے خصوصی اعزاز دیا گیا۔
دستاویزی فلم مقابلہ
سعد تحیتہ کی فلم بارود کی دھند بہترین دستاویزی فلم قرار پائی اور اسے گولڈن پام ایوارڈ سے نوازا گیا۔مشعل الثبیتی کی فلم مرجوج حزازی نے جیوری ایوارڈ حاصل کیا۔بدر الریمی کی فلم فریحہ نے بہترین خلیجی دستاویزی فلم کا گولڈن پام ایوارڈ جیتا، جبکہ مجبل سعد الفرج کی فلم بقشۃ سعد کو خصوصی اعزاز دیا گیا۔
یہ تمام ایوارڈز سعودی عرب، عرب دنیا اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے فلم سازوں، ناقدین اور صنعت کے ماہرین پر مشتمل جیوری کے فیصلوں کی بنیاد پر دیے گئے، جو فلموں کا جائزہ مختلف فنی اور پیشہ ورانہ زاویوں سے لیتے رہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں فیسٹیول کے بانی اور ڈائریکٹر احمد الملا نے کہا:> "اس ایڈیشن کے دوران 50 فلمیں سینما گھروں کی تاریکی سے گزر کر ناظرین تک پہنچیں، اپنے تخلیق کاروں کے احساسات اور ایسے سوالات ساتھ لائیں جو فلم ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہے۔ بہت سے نئے فلمی منصوبوں نے بھی ہمارے ساتھ اپنی ابتدائی شکل اختیار کی، جہاں ایک خیال اور اس کی پہلی اسکرین نمائش کے درمیان فاصلے کم ہوئے۔انہوں نے مزید کہا:> "یہ ایڈیشن اپنے شیڈول، سینما گھروں، سفری منصوبوں اور آخری تالیوں کے بعد خالی ہونے والی نشستوں کے ساتھ اختتام پذیر ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ راستہ کبھی اُن لوگوں سے خالی نہیں ہوتا جو اس پر سفر کرتے ہیں۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی واپس آتا ہے، اپنے اندر اس پہلی حیرت کو دوبارہ محسوس کرنے کی بےچینی لیے۔”
احمد الملا نے اپنے خطاب میں فیسٹیول کی **اعلیٰ مشاورتی کمیٹی** کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس کے اراکین کے نام بعد میں جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کار اور ناقد عبدالمحسن الذبعان کو آئندہ ایڈیشن کا آرٹسٹک ڈائریکٹر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد فیسٹیول کی فنی اور پیشہ ورانہ سمت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
فیسٹیول کے نائب ڈائریکٹر اور اثراء کے ثقافتی مشیر طارق الخواجی نے کہا کہ اس سال فیسٹیول میں نظر آنے والی سرگرمی سعودی فلمی صنعت کی تیز رفتار ترقی اور عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اثراء منفرد فلمی منصوبوں میں سرمایہ کاری اور فلم سازوں کی سرپرستی کے ذریعے اس شعبے کی مسلسل حمایت کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اثراء کی معاونت سے تیار ہونے والی کئی فلموں نے گولڈن پام ایوارڈز حاصل کیے۔
انہوں نے مزید کہا: اس ایڈیشن میں ہم اثراء فلم فنڈ کے نئے مرحلے کے ذریعے فلم سازی اور ترقی کے مزید مواقع فراہم کر رہے ہیں، جس کا مقصد مستند سعودی کہانیوں کو ایسی فلموں میں تبدیل کرنا ہے جو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور سعودی سینما کو مقامی و بین الاقوامی سطح پر مزید مستحکم کریں۔
اس سال پروڈکشن مارکیٹ میں بھی نمایاں پیشہ ورانہ سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں 13 فلمی منصوبوں کے درمیان 51 مالی اور خدماتی ایوارڈز تقسیم کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 40 لاکھ 93 ہزار سعودی ریال سے تجاوز کر گئی۔ یہ گزشتہ ایڈیشن کے تقریباً 25 لاکھ سعودی ریال کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہے

