ریاض، رانا عظیم، سعودی عرب: گلوبل سی آئی او فورم کے زیرِ اہتمام ورلڈ CIO 200 روڈ شو – KSA ایڈیشن 2026 ریاض میں شاندار انداز میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب سمیت دنیا کے 60 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے چیف انفارمیشن آفیسرز (CIOs)، چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسرز (CISOs)، آئی ٹی سربراہان، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ماہرین اور گورننس، رسک اینڈ کمپلائنس (GRC) کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

ورلڈ CIO 200 روڈ شو 2026 محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، اختراع اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ یہ ایونٹ عالمی اداروں جیسے **ورلڈ اکنامک فورم (WEF)، اقوام متحدہ (UN)، او ای سی ڈی (OECD)، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، آئی ایس او (ISO)، برکس (BRICS) اور آسیان (ASEAN) کے مستقبل سے متعلق ڈیجیٹل ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

تقریب کا آغاز سعودی عرب کے قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد گلوبل CIO فورم اور جی ای سی میڈیا گروپ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رونک سمنتارائے نے استقبالیہ خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت میں کامیابی صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن نہیں بلکہ عالمی شراکت داری، اختراعی سوچ اور مضبوط قیادت بھی اس کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ CIO 200 دنیا بھر کے ٹیکنالوجی رہنماؤں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے جہاں وہ مشترکہ چیلنجز کے حل اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر مل کر کام کر سکیں۔

اس موقع پر سیحا ورچوئل ہسپتال کے ڈیجیٹل اینیبلمنٹ ڈائریکٹر حمدان الشمری نے The Collaborative CIO – Powering Cross-Industry Tech Alliances کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا، جس میں انہوں نے مختلف شعبوں کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے اہم قرار دیا۔

ایونٹ کے دوران مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آئی ٹی گورننس، رسک مینجمنٹ، بزنس کنٹینیوٹی اور انٹرپرائز لیڈرشپ جیسے اہم موضوعات پر متعدد کلیدی خطابات اور اعلیٰ سطحی پینل مباحثے منعقد ہوئے۔

مصنوعی ذہانت کی نئی لہر: حکمت عملی، اختراع اور ذہین ادارے کے عنوان سے خصوصی پینل کی نظامت انس موسیٰ ، آئی ٹی ڈائریکٹر Rua Alharam Almakki نے کی۔ پینل میں سید فخرالدین البیز، نزار الترکی، سلیمان خضر، ربا فاروق خضر اور ڈاکٹر فاطمہ العقیل نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال، ڈیجیٹل جدت اور مستقبل کے ذہین اداروں کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں۔

کانفرنس میں دیگر اہم خطابات بھی ہوئے، جن میں کیور جوشی نے AI at Scale – The New Era of Supercomputing ، خالد مبارک الزہرانی نے سعودی وژن 2030 میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے کردار، عارف صدیق کھوکھر نے ڈیجیٹل آڈٹ، گورننس، رسک اور کمپلائنس، جبکہ پروین منوہر نے کلاؤڈ نیٹو انٹرپرائز کی سیکیورٹی پر تفصیلی گفتگو کی۔

استحکام، گورننس اور بزنس کنٹینیوٹی کے عنوان سے لیڈرشپ پینل کی نظامت علی الکونتار ، بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر Zero&One نے کی۔ پینل میں رامیش مروگیسن، ثامر الرویضان اور بیٹانیا ایلو نے ادارہ جاتی گورننس، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت کی گورننس اور کاروباری تسلسل کے جدید تقاضوں پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب کا سب سے زیادہ پذیرائی حاصل کرنے والا سیشن From Competition to Co-Creation: Why CIO Communities Win Faster تھا، جس کی نظامت رسک مینجمنٹ اور بزنس کنٹینیوٹی کے ماہر عدنان رفیق احمد نے کی۔

اس پینل میں ڈاکٹر منصور علی یوسف بیگ، محمد الشوبانی، ونے کمار، علی سیف اور عثمان ابرار نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں CIOs کا کردار صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ادارہ جاتی حکمت عملی، جدت، شراکت داری اور مستقبل کی ڈیجیٹل سمت کے اہم رہنما بن چکے ہیں۔
عدنان رفیق احمد نے کہا کہ سعودی وژن 2030 نے تمام شعبوں کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت متحد کیا ہے، جبکہ گلوبل CIO فورم اور جی ای سی میڈیا گروپ نے سعودی عرب میں عالمی معیار کا ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں 100 سے زائد اداروں کے سینئر ٹیکنالوجی رہنما علم، تجربات اور نئی سوچ کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی بھی نمایاں شرکت رہی، جن میں خرم منصور، حماد صدیقی، اویس چوہدری، وقاص بٹ، سہیل اختر، راسب زاہد، ارسلان وارث اور علی عزیز شامل تھے، جنہوں نے عالمی سطح کے اس فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
تقریب کے اختتام پر CIO 200 Recognition & Felicitation Ceremony منعقد ہوئی، جس میں نمایاں ٹیکنالوجی رہنماؤں کو Next-Gen، Leader، Master اور Legend کی کیٹیگریز میں World CIO 200 Awards 2026 سے نوازا گیا۔
اس موقع پر بلال باجوہ، عدنان رفیق احمد، امتیاز احمد، ڈاکٹر منصور علی یوسف بیگ، عثمان ابرار، انس موسیٰ، نزار الترکی، ربا فاروق خضر، حمدان الشمری، رامیش مروگیسن، سید فخرالدین البیز، ثامر الرویضان، علی سیف، بیٹانیا ایلو، سلیمان خضر، ڈاکٹر فاطمہ العقیل، خالد مبارک الزہرانی، عارف صدیق کھوکھر اور پروین منوہر کو ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اختراع، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور قائدانہ خدمات کے اعتراف میں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب کے اختتام پر عدنان رفیق احمد نے اپنی تصنیف The Happiness Way of Life کی کاپیاں بھی معزز مہمانوں اور ٹیکنالوجی رہنماؤں کو پیش کیں۔ کتاب پیش کرنے والوں میں محمد الشوبانی، فارس الغزوی، انوشری دکشت اور رونک سمنتارائے** شامل تھے۔
عدنان رفیق احمد نے کہا کہ یہ کتاب زندگی میں مثبت سوچ، خوشی، مقصدیت اور کامیابی کے اصولوں کو اجاگر کرتی ہے.جبکہ اس کا مقصد افراد اور قیادت کے سفر میں مثبت تبدیلی اور بہتر طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔

ورلڈ CIO 200 روڈ شو – KSA ایڈیشن 2026 نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سعودی عرب نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل اختراع، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی لیڈرشپ کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہ عالمی فورم دنیا بھر کے CIOs، ٹیکنالوجی ماہرین اور کاروباری رہنماؤں کو ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے جہاں تعاون، علم، اختراع اور مستقبل کی قیادت کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا کے نئے افق متعین کیے جا رہے ہیں۔

