جنیوا، سوئٹزرلینڈ، 8 جولائی 2026:
ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (DCO)، جو جامع اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے قائم دنیا کی پہلی آزاد بین الاقوامی تنظیم ہے، نے سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (SDAIA) اور انٹرنیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایتھکس (ICAIRE) کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران "DCO Ethical AI Guidebook for Policymakers” جاری کر دی۔
یہ اجلاس "Responsible, Trusted, and Safe AI for Prosperity: From Principles to Practice” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور اخلاقی استعمال کے لیے عالمی سطح پر عملی حکمت عملیوں اور گورننس فریم ورک پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
یہ اعلیٰ سطحی اجلاس جنیوا میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے پہلے گلوبل ڈائیلاگ آن آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس کے موقع پر منعقد کیا گیا، جو 6 اور 7 جولائی 2026 کو ہوا۔ اجلاس میں دنیا بھر سے پالیسی سازوں، بین الاقوامی اداروں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں، تعلیمی ماہرین، سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ عالمی ڈیجیٹل اکثریت (World Digital Majority) کس طرح ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عملی گورننس فریم ورک، استعداد کار میں اضافہ، مہارتوں کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے عالمی مکالمہ برائے مصنوعی ذہانت گورننس کے مرکزی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی سیکریٹری جنرل محترمہ دیمہ الیحییٰ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے عالمی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں شرکت کی۔
محترمہ دیمہ الیحییٰ نے عالمی سطح پر جامع اور مساوی AI گورننس کے حوالے سے عالمی ڈیجیٹل اکثریت کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں تمام ممالک کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا:
"مصنوعی ذہانت کے دور کا بنیادی ڈھانچہ اس وقت تشکیل پا رہا ہے، لیکن دنیا کی نصف سے زیادہ اقوام اس عمل میں فیصلہ سازی کا کردار ادا نہیں کر رہیں۔ ہمارے سامنے مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کے نفاذ کا نہیں بلکہ مساوات کا بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور کے اصول کون تشکیل دیتا ہے اور کون صرف ان پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ دنیا میں اصولوں کی کمی نہیں ہے، ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ AI ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور سب کے لیے شامل ہونا چاہیے۔ اصل ضرورت ان اصولوں پر عمل درآمد کی صلاحیت پیدا کرنے کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"DCO Ethical AI Guidebook for Policymakers اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ ہر حکومت کو عملی آلات فراہم کیے جا سکیں اور مصنوعی ذہانت سب کے لیے قابلِ اعتماد ڈیجیٹل خوشحالی کا ذریعہ بن سکے۔”
DCO Ethical AI Guidebook for Policymakers پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور قومی مصنوعی ذہانت کی ٹاسک فورسز کو اخلاقی AI اصولوں کو عملی قومی پالیسیوں، حکمت عملیوں، قوانین اور گورننس فریم ورک میں تبدیل کرنے میں معاونت فراہم کرے گی۔

یہ گائیڈ بک DCO Principles for Ethical AI اور Riyadh AI Call to Action Declaration کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے عالمی سطح پر اہم رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدام DCO کے وسیع AI Governance Ecosystem کا حصہ ہے، جس میں دیگر اہم منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں:
- DCO AI Ethics Evaluator
- AI-REAL Toolkit and Web Portal
- Digital Economy Navigator (DEN)
شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات ممالک کو مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر تیاری، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ، اعتماد سازی، اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
DCO کے مطابق، اخلاقی اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کا فروغ عالمی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاکہ تمام ممالک محفوظ، جامع اور پائیدار ڈیجیٹل ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں

