ریاض، سعودی عرب —
عالمی سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ٹیکنالوجی (GSTS) کی انتظامی کمیٹی نے ہفتے کے روز ریاض میں وزارتِ داخلہ کے گنبد ہال میں ایک تعارفی اجلاس منعقد کیا، جس میں سربراہی اجلاس اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ اجلاس سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں، وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز کی نگرانی میں منعقد ہوگا۔ اس کا اہتمام وزارتِ داخلہ، طویق اکیڈمی کے تعاون سے کر رہی ہے۔ تعارفی اجلاس میں سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش اداروں کے نمائندوں کے علاوہ متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی۔
انتظامی کمیٹی کے مطابق، سربراہی اجلاس سے منسلک سرگرمیوں کا آغاز یکم سے 30 نومبر 2026 تک جاری رہنے والے GSTS مہینے سے ہوگا۔ اس کا مقصد قومی صلاحیتوں کو فروغ دینا، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت کرنا اور جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

اس کے بعد عالمی سکیورٹی و انوویشن نمائش اور مقابلہ (SAIF) 24 سے 26 نومبر 2026 تک منعقد ہوگا، جبکہ مرکزی عالمی سربراہی اجلاس 18 سے 20 دسمبر 2026 تک ریاض میں ہوگا۔ اس میں دنیا بھر سے سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے قائدین، فیصلہ ساز، ماہرین اور جدت طراز شرکت کریں گے۔
سکیورٹی اور ٹیکنالوجی میں جدت کا فروغ
GSTS کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی کو سکیورٹی نظام میں مؤثر انداز سے شامل کرنا، قومی صلاحیتوں کو ترقی دینا، جدت طرازی کو فروغ دینا اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ سعودی عرب کو عالمی سطح پر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر مزید مستحکم کیا جا سکے۔

اجلاس میں سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اسمارٹ سکیورٹی سلوشنز اور بحرانوں کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل پیش کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ سرکاری اداروں، نجی شعبے، جامعات اور تحقیقی مراکز کے درمیان روابط اور شراکت داری کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
وزیرِ داخلہ کے دفتر میں مشیر اور سربراہی اجلاس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ احمد بن محمد الطویان نے کہا کہ یہ اجلاس سعودی عرب کی جانب سے علم اور جدت پر مبنی جدید سکیورٹی و ٹیکنالوجی نظام کی تعمیر کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم بین الاقوامی تعاون، تجربات کے تبادلے، مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز کی پیش بینی اور مؤثر اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انتظامی کمیٹی کے نائب سربراہ عبدالعزیز بن احمد الحمادی نے کہا کہ سربراہی اجلاس کے تحت قومی صلاحیتوں کی تعمیر، جدت طرازی اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل جامع پروگرام پیش کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق GSTS مہینے میں تربیت اور ٹیلنٹ کی نشاندہی پر توجہ دی جائے گی، SAIF نمائش دنیا بھر کے محققین اور اختراع کاروں کو اپنی ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع دے گی، جبکہ مرکزی اجلاس میں ماہرین اور فیصلہ ساز مستقبل کی سکیورٹی اور ٹیکنالوجی پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
13 انتظامی علاقوں میں تربیتی پروگرام
GSTS مہینے کے دوران سعودی عرب کے 13 انتظامی علاقوں میں تربیتی کیمپس، علمی نشستیں، تکنیکی ورکشاپس اور مختلف تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ یہ سرگرمیاں بالمشافہ اور آن لائن دونوں طریقوں سے متعلقہ اداروں کے تعاون سے انجام دی جائیں گی۔

اس کے علاوہ وزارتِ داخلہ کے زیرِ سرپرستی اور طویق اکیڈمی کے ڈیزائن اور انتظام کے تحت ایک خصوصی پروگرام بھی منعقد ہوگا، جس میں فوجی و سکیورٹی شعبوں اور سرکاری اداروں کے 100 قائدین کی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس پروگرام میں دنیا کی بڑی جامعات بھی شریک ہوں گی۔
SAIF نمائش میں 14 شعبوں کی اختراعات پیش کی جائیں گی
عالمی سکیورٹی و انوویشن نمائش اور مقابلہ (SAIF) ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوگا۔ اس میں دنیا بھر کے اختراع کار، محققین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور نوجوان صلاحیتیں 14 تکنیکی اور اختراعی شعبوں میں اپنے منصوبے اور جدید حل پیش کریں گے۔

نمائش میں طلبہ، فارغ التحصیل نوجوانوں اور کاروباری افراد کو اپنے منصوبوں کی ترقی کے مراحل متعارف کرانے کا موقع بھی ملے گا۔ اس کے ساتھ مکالماتی نشستیں اور تکنیکی ورکشاپس منعقد ہوں گی، جن میں جدید رجحانات اور تجربات کے تبادلے پر توجہ دی جائے گی۔
GSTS کے لیے رجسٹریشن: gsts.sa
SAIF نمائش کے لیے رجسٹریشن: saifair.sa
تعارفی اجلاس میں سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش اداروں کے نمائندوں اور میڈیا سے وابستہ افراد نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ شرکاء نے قومی صلاحیتوں کی تربیت، طلبہ میں تکنیکی مہارتوں کے فروغ، سائنسی تحقیق کو عملی حل میں تبدیل کرنے اور قومی کمپنیوں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
واضح رہے کہ عالمی سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ٹیکنالوجی (GSTS) کا انعقاد وزارتِ داخلہ، طویق اکیڈمی کے تعاون سے کر رہی ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد تحالف کمپنی انجام دے رہی ہے۔ وزارتِ تعلیم علمی شعبوں میں اسٹریٹجک پارٹنر، تحکم کمپنی بانی شراکت دار اور علم کمپنی مرکزی شراکت دار ہے

