جدہ (جہانگیر خان) — پاکستان انٹرنیشنل اسکول عزیزیہ، جدہ میں خواتین میں بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور ابتدائی تشخیص کی اہمیت پر ایک معلوماتی سیمینار منعقد کیا گیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور موضوع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

مہمانِ خصوصی بیگم خالد مجید (اہلیہ قونصل جنرل پاکستان، جدہ) نے اسکول انتظامیہ کو خواتین کی صحت و فلاح کے لیے ایک بامقصد پروگرام منعقد کرنے پر سراہا۔
اس موقع پر پرنسپل عطیق الرحمان نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کی ضامن ہے۔

مشہور پاکستانی سرجن ڈاکٹر ارشداللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لیے آگاہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

ڈاکٹر خان نے زور دیا کہ 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو خود معائنہ (Self Examination) باقاعدگی سے کرنا چاہیے، اور کسی غیر معمولی تبدیلی یا گلٹی کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ عمر کے ساتھ بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے، لیکن یہ مرض کم عمر خواتین کو بھی متاثر کر سکتا ہے، اس لیے ابتدائی تشخیص بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ عام خطرے والی خواتین کو 40 سال کی عمر کے بعد ہر سال میموگرافی کروانی چاہیے، جبکہ زیادہ خطرے والی خواتین کو 30 سال سے ہی اسکریننگ شروع کرنی چاہیے۔
شرکاء نے اسکول انتظامیہ اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے آگاہی پروگرامز خواتین کی صحت کے شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں پرنسپل عطیق الرحمان نے ڈاکٹر ارشداللہ خان کو خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔

