وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیوں عون چوہدری کا سعودی عرب کا دورہ، پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات اور مسائل پر تفصیلی گفتگو

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیوں عون چوہدری اور پارلیمانی سیکرٹری چوہدری احسان الحق باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کی اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔

یہ دورہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور مسائل کے تناظر میں کیا گیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) سعودی عرب کے زیرِ اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کمیونٹی اراکین نے بتایا کہ کئی پاکستانی 10 سے 20 سال بیرونِ ملک محنت کرتے ہیں، مگر وطن واپسی پر ان کے لیے کوئی مؤثر پالیسی یا سہارا موجود نہیں ہوتا۔ شرکاء نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انشورنس اور پینشن پالیسی متعارف کروائی جائے تاکہ واپسی کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وفاقی وزیر عون چوہدری نے یقین دہانی کروائی کہ جن افراد کے ویزے پروٹیکٹر کے تحت مکمل ہوچکے ہیں، انہیں پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ سے آف لوڈ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں اوورسیز پاکستانی فوری طور پر اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (OPF) سے رابطہ کریں، جہاں ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) سعودی عرب کے سینیئر نائب صدر خالد اکرم رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

تقریب میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی صاعد عزیز کے علاوہ سماجی، سیاسی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جن میں زاہد لطیف سندھو، ناصر محمود آرائیں، انجینئر ارشد بھٹی، رانا محمد اشرف، رانا سلطان محمود، سردار شعیب، میاں طارق اور دیگر کمیونٹی رہنما شامل تھے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عون چوہدری اور پارلیمانی سیکرٹری چوہدری احسان الحق باجوہ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اوورسیز پاکستانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسی لیے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر ممالک جانے والوں کے لیے اسکلڈ پروگرامز کا آغاز کیا ہے، جن کے تحت او پی ایف سالانہ تقریباً پانچ ہزار افراد کو ہنر مند بنا رہی ہے۔

