درعیہ — تاریخی درعیہ میں گزشتہ روز پروگرام منزال کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، جو قدرتی ماحول، ثقافتی ورثے اور روایتی سعودی مہمان نوازی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ پروگرام وادیِ صفّار کے دلکش مقام پر منعقد کیا گیا ہے، جو وادیِ حنیفہ کا سب سے بڑا معاون وادی شمار ہوتی ہے۔

یہ منفرد پروگرام درعیہ سیزن 25/26 کا حصہ ہے، جس کا مقصد زائرین کو ماضی کی روایتی زندگی، فطری حسن اور ثقافتی اقدار سے روشناس کرانا ہے۔ منزال روزانہ شام پانچ بجے سے اپنے مہمانوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔

پروگرام میں آنے والے افراد کو درعیہ کی قدیم روایات، لوک کہانیوں، شاعری، قدرتی ماحول اور مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری، باز پروری، تیر اندازی، فلکیات جیسے سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جبکہ عالمی شہرت یافتہ ریستورانز، کیفے اور تجارتی مراکز بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔

منزال چار اہم حصّوں پر مشتمل ہے، جو درعیہ کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں "العلوم” کے تحت چمڑے، قالین اور لکڑی کے روایتی فنون سکھائے جاتے ہیں، جبکہ "سلوم” کے ذریعے سعودی قہوہ، صحرائی پودوں، لکڑی جلانے، اونٹوں کا دودھ دوہنے اور خیمہ سازی جیسی روایات متعارف کروائی جاتی ہیں۔

اسی طرح "فارس البادیہ” میں گھڑ سواری اور نشانہ بازی کا تجربہ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ "الصقارہ” میں عربی باز کے ذریعے شکار کے قدیم فن سکھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ "المشرف” کے نام سے ایک خصوصی تجربہ بھی شامل ہے، جہاں صاف و شفاف آسمان تلے ستاروں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

وادیِ صفّار نہ صرف قدرتی حسن بلکہ تاریخی اور جغرافیائی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ یہ علاقہ اپنی زرخیز زمین، چٹانی ساخت اور قدیم زرعی پس منظر کے باعث صدیوں تک انسانی آبادی کے لیے ذریعۂ رزق رہا ہے۔ تاریخی طور پر یہ مقام پہلی سعودی ریاست کے دور میں دفاعی اہمیت بھی رکھتا تھا۔

واضح رہے کہ درعیہ سیزن 25/26 دنیا بھر سے تاریخ اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے،

جہاں جدید انداز میں پیش کیے گئے ثقافتی پروگرام، عالمی معیار کی نمائشیں اور تخلیقی ڈیزائن سعودی ورثے اور
مملکت کی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔

