ریاض – سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں جاری ویژن 2030 کے منصوبوں کے قائدین نے اکتالیسویں ایشیائی ہارس ریسنگ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ فروسہ اور دیگر کھیل ملک میں جامع اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

کھیلوں کا شعبہ ہمیشہ سے مملکت کے ویژن کا بنیادی ستون رہا ہے، جسے گالف، ٹینس اور فٹبال سمیت مختلف کھیلوں میں بڑی سرمایہ کاری کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم گھڑ دوڑ سے گہری وابستگی نے اسے مملکت بھر میں تیزی سے ترقی کرتے متعدد منصوبوں کا محرک بنا دیا ہے۔
ریاض میں منعقدہ کانفرنس کے دوران اس موضوع پر ایک خصوصی مذاکرہ منعقد ہوا، جس کا اہتمام ایشین فیڈریشن آف ہارس ریسنگ اتھارٹیز نے کیا اور میزبانی کلب سباقات الخیل نے کی۔
اسی روز دارالحکومت کے قریب القدیہ میں نئے ریس کورس کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ گھوڑے نہ صرف سعودی معاشرے کا لازمی جز ہیں بلکہ وسیع تر اقتصادی ترقی کے لیے بھی اہم ذریعہ ہیں۔
العلا میں شعبۂ کھیل کے تحت فروسہ کی ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم ہیڈاوے نے کہا کہ گھوڑے اس اسٹریٹجک منصوبے کا مرکزی حصہ ہیں، جہاں رواں سال فیڈریشن ایکویسٹر انٹرنیشنل کی زیر نگرانی عالمی چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔
انہوں نے کہا:
“گھوڑے ہمارے منصوبے کا بنیادی اسٹریٹجک ستون ہیں اور ویژن 2030 کے تحت اقتصادی ترقی، معیشت کے تنوع، سیاحت کے فروغ اور مملکت کے اس خطے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔”
انہوں نے مملکت میں گھڑ دوڑ کے مختلف منصوبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک مربوط نظام تشکیل پائے گا جو عالمی معیار کی ریسنگ تقریبات کی میزبانی کی راہ ہموار کرے گا۔
ادھر القدیہ انویسٹمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ریس کورس کے سربراہ مارک ہیوٹ نے نئے میدان کے قیام کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل میں سعودی کپ کا مستقل مقام ہوگا۔
انہوں نے کہا:
“ہم اقتصادی استحکام، مواقعوں میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، پائیداری کے حصول اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہم 5 لاکھ افراد پر مشتمل نئی رہائشی و سماجی کمیونٹیز تعمیر کر رہے ہیں، جو سیاحت، مہمان نوازی، تعلیم، کھیل اور تفریح کے شعبوں میں 2 لاکھ ملازمتیں فراہم کریں گی۔”

