ریاض: ریاض میں مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم، حلقات رشید بن جبر کے زیرِ اہتمام سالانہ تقریب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں 35 حفاظِ کرام کو اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ روح پرور تقریب شہرِ ریاض میں منعقد ہوئی جس میں حفاظ کے والدین، سفارتی شخصیات، سعودی و پاکستانی کمیونٹی کے معزز اراکین اور علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سفارتخانہ کی نمائندگی کرتے ہوئےے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نجم نواز ثاقب تھے، جنہوں نے سفیر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید مکمل ضابطۂ حیات اور سرچشمۂ ہدایت ہے، جس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے حفاظِ کرام، ان کے والدین اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

مدرسہ کے نگران شیخ موسیٰ بن الغامدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے روحانی اجتماعات نوجوان نسل میں قرآن سے محبت کو فروغ دیتے ہیں اور اسلامی اقدار کو مضبوط بناتے ہیں۔ مکتبہ دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ قرآن کی تعلیم معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو مستحکم کرتی ہے اور یہ ادارہ اس مشن کو بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

صدر حلقات، قاری محمد اسد اقبال نے بتایا کہ گزشتہ 18 برسوں سے ادارہ پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں کو حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ دینی تربیت اور عصری تعلیم بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی سرپرستی میں مملکت میں قرآن و سنت کی تعلیم کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

تقریب میں خالد اکرام رانا، فیصل علوی، ڈاکٹر حافظ عمران، ڈاکٹر اویس سلفی، انجینئر سلمان رشید، زاہد سندھو اور عمر فاروق کیلانی سمیت دیگر نمایاں شخصیات نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تقریب کا آغاز قاری تنویر الاسلام کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا۔ بعد ازاں 35 حفاظِ کرام میں اسناد، انعامات اور اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے بچوں کی اس عظیم کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی مزید ترقی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ادارے کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 267 طلبہ و طالبات اس مدرسے سے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر چکے ہیں، جو ادارے کی مسلسل دینی خدمات کا روشن ثبوت ہے۔
تقریب کے اختتام پر اجتماعی دعا کی گئی اور امتِ مسلمہ کی سربلندی، پاکستان و سعودی عرب کی ترقی اور حفاظِ کرام کے روشن مستقبل کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

