پاکستان فخر کے ساتھ ایک تاریخی کامیابی کا جشن منا رہا ہے جہاں عمارہ آفتاب دبئی میں منعقدہ تقریب میں اے آئی کیٹالسٹ ایوارڈ حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ یہ اعزاز انہیں دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی عالمی اے آئی کمیونٹی کی بنیاد رکھنے پر دیا گیا۔
یہ کامیابی پاکستان کو عالمی مصنوعی ذہانت کے نقشے پر نمایاں مقام دیتی ہے۔ عمارہ آفتاب کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ پاکستانی صلاحیتوں کے عالمی سطح پر اعتراف کی بھی عکاس ہے۔
جب پاکستان انڈس اے آئی ویک منا رہا ہے، عمارہ کی کامیابیاں ملک میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی قیادت کی روشن مثال ہیں۔ وہ پاکستان میں ویمن اِن اے آئی کمیونٹی قائم کرنے والی پہلی خاتون ہیں اور ملک کی پہلی اے آئی پوڈکاسٹر بھی ہیں، جو جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی پر مکالمے کو فروغ دے رہی ہیں۔
انہوں نے 40 سے زائد اے آئی کورٹس کو تربیت دی، وکلا، بیوروکریٹس، سرکاری افسران اور جامعات کے لیے اے آئی تعلیم کے خصوصی پروگرامز متعارف کروائے۔ وہ مختلف مشاورتی بورڈز کی رکن ہیں، روٹری انٹرنیشنل 3271 کی ڈسٹرکٹ اے آئی چیئر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، قازقستان کے اے آئی ریسرچ جرنل کی مشیر ہیں، اور کتاب “Falling in Love with AI: A C-Suite Romance Guide” کی مصنفہ بھی ہیں۔
پاکستان جب ایک ٹیکنالوجی سے بھرپور مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، عمارہ آفتاب کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی صلاحیتیں عالمی قیادت کر رہی ہیں۔

