الریاض :- سعودی عرب میں اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے سرگرم معروف ادبی تنظیم تخیل کے زیرِ اہتمام تخیل مرکز الریاض میں ایک خصوصی ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں شہر کے ممتاز شعراء، ادباء اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔
یہ نشست پاکستان کے نامور شاعر ناز خیالوی کے شعری مجموعے "لہو کے پھول” کے تنقیدی جائزے کے لیے منعقد کی گئی، جس میں مقررین نے شاعر کی شخصیت، فن، فکری جہات اور شعری اسلوب پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
نشست کے ناظم اور تخیل کے جنرل سیکرٹری نے ناز خیالوی کے مجموعی شعری اسلوب اور فنی خصوصیات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ معروف شاعر شاہد خیالوی نے شاعر کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کے کلام پر ان کے اثرات کے حوالے سے اپنا مضمون پیش کیا۔

تخیل کے سرپرستِ اعلیٰ اور معروف شاعر منصور محبوب نے ناز خیالوی کی شاعری کے فنی محاسن اور مجموعۂ کلام پر ادراکی و ادبی تنقید کے تناظر میں اپنا مقالہ پڑھا۔ بعد ازاں معروف شاعر یوسف علی یوسف نے ناز خیالوی کی شاعری میں جمالیاتی اسلوب، استعارات اور تشبیہات کے استعمال پر سیرحاصل گفتگو کی۔
نشست کے اختتام پر صدرِ مجلس، ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر گوہر رفیق نے اپنے صدارتی خطاب میں ناز خیالوی کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری عصری شعور، انسانی احساسات اور فنی پختگی کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے تخیل کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
شرکائے نشست نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ناز خیالوی کا شعری سرمایہ اردو ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے اور ان کی تخلیقات نئی نسل کے لکھنے والوں کے لیے فکری و فنی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
آخر میں تخیل کی جانب سے تمام مقررین، مہمانوں اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا گیا۔

