ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ریاض فنانس لیڈرز حب کے زیرِ اہتمام الخُبر سے تشریف لانے والے ممتاز فنانس پروفیشنل مبین فیصل کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی فنانس کمیونٹی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کی میزبانی ضیاء مصطفیٰ اور ولی اللہ نے کی۔ اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ سماجی، فکری اور تفریحی سرگرمیوں میں شرکت ذہنی صحت، مثبت سوچ اور باہمی روابط کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تقریب میں ضیاء مصطفیٰ، محمد دانش، ڈاکٹر محمد عظیم، زبیر خان بلوچ، عظیم شیخ، شکیل احمد، رضوان علی، ڈاکٹر انصب، شہریار ملک، مبین فیصل اور ولی اللہ سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔
اظہارِ خیال کرتے ہوئے عظیم شیخ نے حالیہ علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ پیش کیا اور پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے وسطی ایشیا میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی۔
مہمانِ خصوصی مبین فیصل نے سعودی عرب کی تیز رفتار ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور وژن 2030 کے تحت ہونے والی پیش رفت کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت آنے والے برسوں میں عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید اہم مقام حاصل کرے گی۔
ولی اللہ نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا سمیت عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت اور اہمیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے، جبکہ محمد دانش اور ڈاکٹر محمد عظیم نے فنانس کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ AI فیصلہ سازی، تجزیاتی عمل اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انسانی بصیرت اور تجربے کی اہمیت برقرار رہے گی۔
شکیل احمد اور رضوان علی نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو قابلِ قدر قرار دیا۔
ڈاکٹر انصب اور شہریار ملک نے کہا کہ آنے والا دور سعودی عرب کی ترقی، جدت اور عالمی قیادت کا دور ہوگا اور دنیا مستقبل قریب میں مملکت کی مزید نمایاں کامیابیوں کی شاہد ہوگی۔
تقریب کے اختتام سے قبل سینئر پاکستانی فنانس پروفیشنل مدثر فاروق، جو گزشتہ دنوں علیل رہے، کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
اختتام پر ضیاء مصطفیٰ اور ولی اللہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں پیشہ ورانہ روابط، باہمی تعاون اور فکری تبادلے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

