عرب دنیا میں پہلی بار مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ورچوئل رپورٹر ’صباح‘ نے پروگرام ’صباح العربیہ‘ میں اپنی جدید اور حیرت انگیز انٹرایکٹو صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ العربیہ ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام میں ’صباح‘ نے انسانی انداز میں گفتگو، فوری سوال و جواب اور براہِ راست مکالمے کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے جدید استعمال کی جھلک پیش کی۔
ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور مصنوعی ذہانت کے ماہر بلال قصاصیر نے پروگرام کے دوران ورچوئل رپورٹر ’صباح‘ کی تیاری اور ترقی کے مراحل پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ’صباح‘ کا تصور العربیہ کے ساتھی وسام کیروز کی تجویز سے سامنے آیا، جس کے بعد ماہرین کی ٹیم نے اس کی شکل، شناخت، آواز، ذہانت اور دیگر تکنیکی خصوصیات کو مسلسل ترقی دی تاکہ اسے العربیہ اور ’صباح العربیہ‘ کی شناخت کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
’صباح‘ نے بتایا کہ وہ اب صرف تیار شدہ خبروں کے متن پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ جدید مصنوعی ذہانت، ڈیپ لرننگ اور فوری ڈیٹا تجزیے کی ٹیکنالوجی کے ذریعے سوالات کے جواب دینے، مکالمہ کرنے اور براہِ راست گفتگو میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پروگرام کے دوران ’صباح‘ کی باڈی لینگویج، چہرے کے تاثرات، آواز کے اتار چڑھاؤ اور فوری ردعمل نے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ اس نے اسٹوڈیو میں موجود انسانی میزبانوں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کی اور اپنے کردار کو انسانی صحافیوں کے معاون کے طور پر واضح کیا۔
ورچوئل رپورٹر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حقیقی صحافت میں انسانی صحافی کا تجربہ، فیلڈ رپورٹنگ، ذرائع سے اعتماد اور معلومات کی تصدیق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نے واضح کیا کہ خبری مواد کی حتمی جانچ کے لیے انسانی ایڈیٹوریل ٹیم کا کردار بدستور ضروری ہے۔
’صباح‘ نے اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ریاض، ٹوکیو اور گرین لینڈ سمیت مختلف مقامات پر پیش کیا، جس سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ورچوئل موجودگی اور خبروں کی جدید پیشکش کے امکانات نمایاں ہوئے۔
اس منفرد تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت میڈیا کے شعبے میں انسانی صحافیوں کے لیے ایک معاون ٹیکنالوجی کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’صباح‘ کی پیشکش نے جدید میڈیا میں ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت اور انسانی صحافت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک نئی مثال پیش کی۔

