ریاض —سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تعلیمی و فکری تنظیم ’’اظہار‘‘ کے زیرِ اہتمام ’’اسلام کا پیغامِ امن اور عالمی منظرنامہ‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز اور باوقار نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب ’’اظہار ہاؤس‘‘ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت تنظیم کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر عظمت اللہ بُھٹہ نے کی، جبکہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
نشست کا آغاز عبداللہ اقبال کیلانی کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جبکہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر راشد محمود نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے ’’اظہار‘‘ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 2020ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم نوجوان نسل کی علمی، اخلاقی اور فکری تربیت، مثبت سوچ کے فروغ اور باہمی ہم آہنگی کے لیے سرگرم عمل ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ سیاسی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور معاشی بے یقینی جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق پائیدار عالمی امن محض عسکری قوت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ عدل و انصاف، انسانی حقوق، باہمی احترام اور بامعنی مکالمہ عالمی سلامتی کی مضبوط بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام امن، عدل، رواداری اور انسانی احترام کا آفاقی پیغام دیتا ہے اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کردار اور عملی رویے کے ذریعے اس پیغام کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر موجود کشیدگی کا مقابلہ جذباتی ردِعمل کے بجائے دانش، حکمت اور مثبت مکالمے کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ حکمتِ عملی اور باہمی تعاون کے ذریعے مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو جدید علوم، تحقیق، اخلاقی اقدار اور دینی شعور سے آراستہ کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
مہمانِ اعزاز پروفیسر اویس سلفی نے نوجوانوں کو ملت کا اہم علمی اور فکری اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کی علمی، تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لانے پر زور دیا۔

رانا خالد اکرم نے کہا کہ اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ فکری رہنمائی نوجوان نسل کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر عکاشہ مجاہد، عمر فاروق کیلانی، عبدالرزاق باجوہ، فیاض مغل، عبد الوحید اور عبدالحسیب سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے عالمی امن، انسانی اقدار کے فروغ، عدل و انصاف کے قیام اور نوجوان نسل کی مثبت فکری و اخلاقی تربیت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر عظمت اللہ بُھٹہ نے مہمانِ خصوصی، مہمانانِ گرامی اور شرکائے نشست کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر کے فکری اور معاشرتی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرکے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی علمی، اخلاقی اور فکری تربیت کو ’’اظہار‘‘ کے بنیادی مقاصد میں شامل قرار دیا۔
انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت ’’وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کو امن و سلامتی کی راہ دکھائے اور معاشرے میں محبت، خیر، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
نشست کے اختتام پر شرکائے محفل نے اسلام کے پیغامِ امن، مثبت فکری سرگرمیوں اور علمی مکالمے کے تسلسل کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ بعد ازاں معزز مہمانوں اور شرکائے نشست کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔

