ریاض، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر ریاض میں منعقدہ 17ویں انٹرنیشنل انرجی فورم کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے مرکزی سیشن بعنوان ’’پائیدار توانائی کے حل میں سرمایہ کاری اور تجارت: توانائی کو صاف، قابلِ رسائی اور سستا بنانا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ان کی اجلاس میں شرکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا مظہر ہے۔
علی پرویز ملک نے سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ سرمایہ کاری کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں توانائی کا تحفظ، سستی توانائی کی دستیابی اور پائیداری کو بیک وقت آگے بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاری صرف قابلِ تجدید توانائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ تیل و گیس، اہم معدنیات اور بجلی کے ترسیلی نظام اور پائپ لائنوں سمیت بنیادی ڈھانچے میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

سال 2026 میں عالمی توانائی کی فراہمی کو درپیش غیر معمولی بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہے بلکہ بحری نقل و حمل اور انشورنس کے شعبے بھی متاثر ہوئے۔
علی پرویز ملک کے مطابق درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار کے باوجود پاکستان نے حکومتی اقدامات اور برادر ممالک، بالخصوص سعودی عرب، قطر اور کویت کے تعاون سے توانائی کے بڑے ذرائع کی راشن بندی کیے بغیر اس بحران کا سامنا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو ذاتی طور پر آگے بڑھانے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر کی تیاری، عالمی معیار کی بانڈڈ ریزروز اسکیم، مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے، ریفائنریز اور ٹینک فارمز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بجلی اور گیس کی مسابقتی منڈیوں اور ضرورت مند طبقات کے لیے ہدفی ریلیف اقدامات پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی نظام میں جدت اور پائیداری کے ساتھ توانائی کی قابلِ برداشت قیمت، مساوی مواقع اور رسائی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان مستقبل کی نسلوں کے لیے مشترکہ توانائی تحفظ کے اہداف کے حصول کی خاطر انٹرنیشنل انرجی فورم کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
پاکستان اور لیبیا کے درمیان خام تیل کے شعبے میں تعاون پر گفتگو

انٹرنیشنل انرجی فورم کے اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیرِ تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق سے دوطرفہ ملاقات کی، جس میں تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے اپنے لیبیائی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان نے اپنی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کی صورت میں متبادل ذرائع برقرار رکھنے کے لیے خام تیل کی درآمد کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
لیبیا کے وزیر نے پاکستان کو اپنے ملک کے لیے ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی قومی آئل کمپنی کو پاکستانی کمپنیوں کے لیے خام تیل کی زیادہ مقدار مختص کرنے کی ترغیب دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ لیبیا اپنی ریفائنریز کو جدید بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی تعاون پر تبادلۂ خیال

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے قطر کے وزیرِ مملکت برائے توانائی امور سعد شیریدہ الکعبی کے ساتھ تفصیلی ناشتے پر ملاقات بھی کی، جس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کی تلاش کے شعبے میں تعاون

ترکیہ کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بایراکتار نے بھی وفاقی وزیرِ پیٹرولیم سے ملاقات کی۔ انہوں نے اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تاکہ ترک پیٹرولیم کارپوریشن (TPAO) کے سیسمک سروے جہاز کی پاکستان آمد کے بعد دریائے سندھ کے طاس میں ڈیٹا جمع کرنے کا کام شروع کیا جا سکے۔
فورم کے موقع پر علی پرویز ملک نے مختلف ممالک کے وزرائے توانائی اور عالمی توانائی کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں توانائی کے بین الاقوامی تعاون، درآمدی ذرائع میں تنوع، مضبوط توانائی بنیادی ڈھانچے اور محفوظ، سستی اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔

